ڈھال[1]
معنی
١ - تلوار اور نیزے وغیرہ کا وار روکنے کا آلہ جو چمڑے یا دھات وغیرہ کا بنا ہوا اور تھالی کی طرح گول اور عام طور سے بیچ میں اُبھرا ہوا سرپوش نما ہوتا ہے، سِپَر، پھری۔ "کمر میں پٹکا بندھا ہے اس پر ڈھال کسّی ہے۔" ( ١٩٤٦ء، مقالاتِ شیرانی، ٢٢ ) ٢ - [ مجازا ] آڑ، پردہ، بچاؤ کا ذریعہ، پناہ۔ "انور سجاد میری ڈھال تو نہیں بن سکتے تھے بس پاکستان کے کام آسکتے تھے۔" ( ١٩٨٣ء، زمیں اور فلک اور، ١١٨ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تلوار اور نیزے وغیرہ کا وار روکنے کا آلہ جو چمڑے یا دھات وغیرہ کا بنا ہوا اور تھالی کی طرح گول اور عام طور سے بیچ میں اُبھرا ہوا سرپوش نما ہوتا ہے، سِپَر، پھری۔ "کمر میں پٹکا بندھا ہے اس پر ڈھال کسّی ہے۔" ( ١٩٤٦ء، مقالاتِ شیرانی، ٢٢ ) ٢ - [ مجازا ] آڑ، پردہ، بچاؤ کا ذریعہ، پناہ۔ "انور سجاد میری ڈھال تو نہیں بن سکتے تھے بس پاکستان کے کام آسکتے تھے۔" ( ١٩٨٣ء، زمیں اور فلک اور، ١١٨ )